3 دسمبر 2013 - 20:30
پندرہ دھشتگردوں کا پندرہ سالہ لڑکی کے ساتھ وحشیانہ سلوک

شام میں پندرہ سلفی دھشتگردوں نے ایک عیسائی گاوں کی رہنے والی مریم نامی پندرہ سالہ عیسائی لڑکی کے ساتھ پندرہ دن تک وحشیانہ سلوک کر کے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔

اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ شام میں پندرہ سلفی دھشتگردوں نے حمص کے علاقے القصیر میں عیسائیوں کے گاوں کی رہنے والی مریم نامی پندرہ سالہ عیسائی لڑکی کے ساتھ پندرہ دن تک وحشیانہ سلوک کر کے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔عینی شاہدین کے مطابق جبہۃ النصرہ سے وابستہ دھشتگردوں کے اس ٹولے نے عیسائیوں کے علاقے میں ایک گھر پر حملہ کر کے پندرہ سالہ لڑکی کو اپنے قبضے میں لے لیا اور اس کے ساتھ ناجائز سلوک کرنا شروع کر دیا۔کہا جاتا ہے کہ القصیر میں النصرہ ٹولے کے کمانڈر نے پہلے دن مریم کے ساتھ نکاح کیا اور اسے اپنی ہویٰ و ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد طلاق دے دیا اس کے بعد اس گروپ کے دوسرے آدمی نے اس کے ساتھ نکاح کر لیا اور وہی سلوک کیا جو پہلے والے نے اس کے ساتھ کیا تھا اسی طرح ہر روز ایک آدمی اس کے ساتھ نکاح کرتا اور اسے طلاق دیتا رہا اور اپنی ہوس پوری کرتا رہا یہاں تک کہ پندرہ آدمیوں نے پندرہ دن تک اس پندرہ سالہ لڑکی کے ساتھ  وحشیانہ سلوک کیا۔اس رپورٹ کے مطابق پندرہ دن کے بعد یہ لڑکی النصرہ سے وابستہ حیوانوں کی درندگی کی وجہ سے دیوانہ ہو گئی تو آخر کار اسی ٹولے نے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔جبہۃ النصرہ ٹولے سے وابستہ افراد نے یہ اقدام اپنے ان وہابی رہبروں کے فتووں کی روشنی میں کیا جو یہ فتویٰ دیتے ہیں کہ غیر مسلم عورت کو اپنی کنیزی میں لے کر اسے اپنی ہوس کا شکار بنایا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲